Customer Service Centre: 9924513899245140

***12-02-2024**A delegation of thirty-eight officers from departments attached to federal, provincial and autonomous bodies is visiting various institutions of the country under a special training program. ****The purpose of the visit is to enhance the capacity of the officers, increase their professional skills to take on more responsibility. ****The purpose of the delegation's visit to the Water Corporation is to see and shed light on the water supply and drainage system in the mega city. ***The purpose of the visit is to give the delegation an opportunity to study the administrative structure of various institutions and the economic conditions of the country. **** The delegation appreciated the efforts of the CEO Water Corporation for setting up the Hydrants Management Center and presented a shield in appreciation to him.**** CEO Water Corporation gave a detailed briefing to the delegation about Hydrants Management Center and other issues including reforms in Water Corporation. Interpreter *****Dated 06-02-2024***Karachi:- ( ) On the special instructions of CEO KW&SC Engineer Syed Sallahuddin Ahmed, the KW&SC officials have completed all arrangements for water supply and sewerage across the city in connection with the general elections to be held on February 8, 2024.. ****According to the spokesperson of KW&SC, various complaints of drainage have been eliminated around all the polling stations established across the city, while the work of desalting and cleaning with Jetting and Suction machines of sewage lines and manholes around the possible polling stations is going on rapidly. ******Constomer Services Center Lower Block A Ninth Mile Karsaz Shahrah Faisal Lal Qila Restaurant Karachi Phone:-021-99245138-43 Fax 021-99245190 Whatup:0319-2046357 *************** r**

17 ستمبر 2023 / میڈیا سیل / ایم ڈی / سی ای او / کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن

پریس ریلیز:-

کراچی:- ( ) میئر کراچی و چیئرمین واٹر کارپوریشن بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ کراچی کا پانی کراچی کی عوام تک کے تحت شہر بھر میں پانی چوروں کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری ہیں، اس ضمن میں پاکستان رینجرز، قانون نافذ کرنے والے اداروں، سندھ پولیس سمیت واٹر کارپوریشن انتظامیہ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، شہر میں پانی کی کمی کے باوجود ہم دستیاب پانی کی منصفانہ تقسیم کر رہے ہیں، پانی چوروں سے کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا کیونکہ پانی پر صرف شہریوں کا حق ہے، کراچی کی عوام کا پانی ان تک پہنچائیں گے، اس ضمن میں شہر بھر میں موجود تمام غیر قانونی ہائیڈرنٹس مسمار اور غیر قانونی کنکشن منقطع کیے جائیں گے اور شہر میں فراہمی و نکاسی آب سمیت کچرے کے مسائل حل کے لیے پلان تیار کیا گیا ہے جس پر جلد عملدرآمد شروع ہوگا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے چیئرمین سیکریٹریٹ کارساز واٹر کارپوریشن میں سینئر صحافیوں، چیف ایڈیٹرز، ایڈیٹرز، چیف رپورٹر اور رپورٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد، نمائندہ میئر کراچی برائے سیاسی امور کرم اللہ وقاصی سی ای او واٹر کارپوریشن انجینئر سید صلاح الدین احمد، سی او او واٹر کارپوریشن انجینئر اسداللہ خان، دین محمد شر، ندیم کرمانی، الہیٰ بخش بھٹو، سید سردار شاہ سمیت دیگر اعلیٰ حکام موجود تھے، انکا کہنا تھا کراچی کے بلدیاتی مسائل میں اہم مسئلہ پانی ہے، شہری واٹر مافیا سے پریشان ہیں اور تقاضہ کرتے ہیں کہ پانی انہیں میسر ہو جبکہ شہری پانی کا بل ادا کرنے کو تیار ہیں اس لیے ہم نے پانی کی منصفانہ تقسیم اور چوری کو روکنے کی کوشش ہے، میئر نے بتایا کہ حب ڈیم سے کراچی کو پانی فراہم کرنے والی لائن بہت پرانی ہے جو 1981 میں بنی تھی جس کی بحالی پر ہم کام کر رہے ہیں انشاء اللہ بیس ماہ میں 100 ایم جی ڈی پانی حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے، جس کے بعد اس لائن سے زیادہ پانی کراچی کو فراہم کیا جا سکے گا، انہوں نے کہا کینجھر جھیل اور حب ڈیم سے پانی کی فراہمی کو مزید بڑھانے کی کوشش کریں گے جبکہ کے فور منصوبے پر کام ہو رہا ہے اور وفاقی حکومت کا اکتوبر 2024 میں کے فور مکمل کرنے کا ٹارگٹ ہے اس لیے میں صرف کے فور پر انحصار نہیں کررہا بلکہ حب ڈیم پر بھی کام کررہا ہوں، پچھلی وفاقی حکومت نے کے فور پر کام روک دیا اور کہا وفاق اب کے فور پر کام کرے گا لیکن پھر 2018 سے 2023 تک صرف وقت ضائع کیا گیا جو کراچی کے ساتھ سب سے بڑی ناانصافی ہے، انہوں نے کہا ہمیں 85 روز ہو چکے ہیں ہم نے جو روڈ میپ تیار کیا تھا اس پر کام جاری ہے، ہم نے یکسوئی کے ساتھ کوشش کی ہے کہ شہریوں کو فوراً ریلیف فرائم کیا جائے اور اس ضمن میں ہم نے واٹر مافیا کے خلاف کاروائی کا آغاز کیا ہے، ایک اندازے کے مطابق شہر میں 150 غیر قانونی ہائیڈرنٹس چل رہے ہیں جبکہ مختلف کاروائیوں میں اب تک 70 ایف آئی آر کاٹی جا چکی ہیں اور 75 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، پاکستان رینجرز، قانون نافذ کرنے والے اداروں، سندھ پولیس سمیت واٹر کارپوریشن کی مدد سے جنجال گوٹھ، منگھوپیر، تین ہٹی اور محمود آباد میں کارروائی کی ہے جس سے اورنگی ٹاون، نیو کراچی، نارتھ کراچی، ڈی ایچ اے، لیاری اور بلدیا میں پانی کی فراہمی بہتر ہوئی ہے اور ان کاروائیوں سے ایک اندازے کے مطابق ایک کروڑ گیلن پانی بچایا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ دو ہزار بائیس اور تیئیس کے حالات کو سامنے رکھ کر سندھ اسمبلی سے نیا قانون منظور کروایا گیا ہے، نئے قانون کے مطابق واٹر کارپوریشن اپنی لائنوں کی حفاظت کے لیے خود کاروائی کر سکتا ہے جس کے مطابق اگر کوئی غیر قانونی ہائیڈرنٹ چلاتا ہے تو اُسے پانچ سال سزا اور پچاس لاکھ جرُمانہ ہوگا، نئے قانون کے تحت پانی کے مقدمات کے لیے اسپیشل کورٹ کو متعارف کروایا گیا ہے کیونکہ عدالتوں میں مقدمات کی تعداد زیادہ ہے اس لیے ہم چیف جسٹس سے رجوع کریں گے کہ اس کورٹ کو آپریشنل کردیا جائے تاکہ جو پانی چور ہیں انکے خلاف فورآ کارروائی کی جا سکے، میئر کراچی نے کہا شہر میں اس وقت سات سرکاری ہائیڈرنٹس چل رہے ہیں جن کی آمدنی واٹر کارپوریشن کو ملتی ہے، سرکاری ہائیڈرنٹس پر جو پانی استعمال کیا جاتا ہے اس پر میٹرنگ سسٹم متعارف کر رہے ہیں جن پر چند ہفتوں میں میٹرز نصب کردیے جائیں گے، انکا کہنا تھا صنعتی علاقوں کے پانی کے حوالے سے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں کیونکہ صنعتی علاقوں کا 120 ایم جی ڈی پانی بغیر ٹریٹ سمند برد ہورہا ہے اس لیے ٹریٹمنٹ پلانٹ لگا کر 40 ایم جی ڈی پانی کو ٹریٹ کرنے کا منصوبہ شروع کر رہے ہیں جس سے لانڈھی اور کورنگی کی صنعتی اس پانی کو استعمال کر سکیں گیں، انہوں نے بتایا کہ واٹر کارپوریشن نے سب سوائل کے 32 لائسنس جاری کیے ہیں جو صنعتی اداروں کو پانی فراہم کرتے ہیں، جس کی واٹر کارپوریشن کو پانچ کروڑ کی آمدنی ہوتی ہے، اس لیے ہمیں صنعتکاروں کے مزید تعاون کی ضرورت ہے، میں صنعتکاروں سے کہتا ہوں کہ ہمیں بتائیں کہ وہ کتنا پانی واٹر کارپوریشن اور کتنا پانی سب سوائل کا استعمال کرتے ہیں، انکا کہنا تھا واٹر کارپوریشن کے مختلف اداروں پر 52 ارب روپے واجب الادا ہیں اس لیے میری تمام اداروں سمیت شہریوں سے التماس ہے کہ واجبات کی ادائیگی میں واٹر کارپوریشن کے ساتھ تعاون کریں کیونکہ واٹر کارپوریشن کے ریٹائرڈ ملازمین کے پیشن کے مد میں 5 ارب کے واجبات ہیں جبکہ واٹر کارپوریشن کی ماہانہ آمدنی 120 کروڑ ہے، علاؤہ ازیں میئر کراچی نے سینئر صحافیوں کے ہمراہ ہائیڈرنٹس مینجمنٹ سینٹر واٹر کارپوریشن کا دورہ بھی کیا، اس موقع پر انکا کہنا تھا سی ای او واٹر کارپوریشن انجینئر سید صلاح الدین احمد نے اہم اقدام اٹھاتے ہوئے ہائیڈرنٹس مینجمنٹ سینٹر کا آغاز کیا ہے جس پر انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں، انہوں نے کہا 550 ٹینکرز میں ٹریکر سسٹم اور ٹینکرز کی ونڈ اسکرین پر کیو آر کوڈ نصب کیے گئے ہیں، کیو آر کوڈ سے عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو پتا چل سکے گا کہ یہ ٹینکر کون سے ہائیڈرنٹ سے رجسٹرڈ ہے اور اس کے سرکاری نرخ کیا ہے جبکہ کیو آر کوڈ سے غیر قانونی ٹینکرز کا باآسانی پتا چلے گا جس سے پانی کی چوری پر قابو پایا جا سکے گا جو ہمارا بنیادی اور اصل مقصد ہے، انہوں نے بتایا کہ بغیر ٹریکر کے چلنے والے 87 واٹر ٹینکرز کے خلاف کاروائی کی گئی ہے جبکہ جو ٹینکر سپلائی کے دوران ٹریکر سے منقطع ہوگا اس کے خلاف بھی کاروائی کی جائے گی، میئر کراچی کا مزید کہنا تھا کہ ہم تو آج بھی کراچی کی بہتری کے لیے کام کر رہے ہیں اور انشاء اللہ آئندہ آنے والے وقت میں بھی اپنے وسائل کے مطابق کام کرتے رہیں گے۔

جاری کردہ:- عبدالقادر شیخ
پبلک ریلیشنز آفیسر (پی-آر-او)
کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن

Karachi Water Board

Office of Information Technologies

Previous Mayor Karachi Barrister Murtaza Wahab is giving a briefing to the journalists about the command and control system established in the office of Karachi Water and Sewerage Corporation, Deputy Mayor Salman Abdullah Murad is also present on this occasion

Leave Your Comment